اعتراض پنجم:۔ اگر خدا ہے تو کہاں ہے؟اور کب سے؟
جواب اوّل:۔ یہ سوال مہمل ہے۔کب اور کہاں زمانہ اور مکان ہیں جو مخلوق ہیں۔لہٰذا حادث میں قدیم کا محدود ہونا محال ہے۔
جواب دوم:۔ اسی طرح دہریوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ دنیا کب سے ہے؟اگر کہیں قدیم سے تو ہم کہیں گے کہ خدا بھی قدیم ہے ۔اگر کہیں فلاں زمانہ...
اعتراض چہارم:۔ جو لوگ خدا کے مقر ہیں وہ بھی گناہ کرتے ہیں ۔اگر خدا ہے تو اس کے قائل کیوں گناہ سے نہیں بچتے؟
جواب اوّل:۔ نافرمانی سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے ،ہمارے ملک میں کئی چور اور ڈاکو ہیں کیا اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ یہاں کوئی حاکم نہیں ؟حالانکہ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ فلاں...
اعتراض سوم:۔ اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں یہ تفرقہ نہ ہوتا ۔کوئی غریب ہے کوئی امیر۔کوئی مریض اور کوئی تندرست۔کوئی کمزور اور کوئی طاقتور۔
جواب اوّل:۔ یہ اعتراض تو ایسا ہے جیسا کہیں کہ ہندوستان یا پاکستان کا کوئی حاکم نہیں کیونکہ یہاں تفرقہ ہے۔کوئی ڈپٹی کمشنر ہے کوئی گورنر۔
جواب دوم:۔ اﷲ تعالیٰ...
اعتراض دوم:۔ اگر خدا کا کوئی وجود ہوتا تو مذہب میں اختلاف نہ ہوتا بلکہ سب مذہب آپس میں متفق ہوتے کیونکہ ان کا اتارنے والا بھی ایک مانا جاتا لیکن چونکہ اختلاف ہے اس لئے معلوم ہوا کہ الہام وغیرہ وہم ہے اور خدا کا کوئی وجود نہیں۔
جواب :۔ مذہب کے اختلاف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا بھیجنے والا...
اعتراض اوّل:۔ چونکہ خدا نظر نہیں آتا اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا وجود وہم ہی وہم ہے
جواب اوّل:۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ہیں جونظرنہیں آتیں۔جیسے عقل،ہوا،روح،بجلی اورزمانہ وغیرہ مگر دہریہ ان چیزوں کے وجود کے مقر ہیں۔
جواب دوم:۔ اگر خدا لوگوں کو نظر آیا بھی کرتاتب بھی اس کو ہر شخص تسلیم نہ...
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.