اعتراض۔ مسیح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اپنی عمر 80 سال کے آگے پیچھے ہونے کی پیشگوئی کی جو پوری نہ ہوئی

mindroastermir

Administrator
رکن انتظامیہ
۴۔ اپنی عمر کے متعلق پیشگوئی

اعتراض۔ مسیح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے اپنی عمر 80 سال کے آگے پیچھے ہونے کی پیشگوئی کی جو پوری نہ ہوئی

حضرت مسیح موعود ؑ کو خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔ ثَمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذٰلِکَ (الہام ۱۸۶۵ء۔ تذکرہ صفحہ۵ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) کہ تیری عمر اسی برس یا اس کے قریب ہو گی حضورؑ فرماتے ہیں۔ ’’جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ توچوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۱)

پھر حضور ؑ کو الہام ہوا:۔

’’اسی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۰)

چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود ؑ ساڑھے پچھتر سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

طرزِ تحقیق

کسی کی عمر کا ٹھیک ٹھیک حساب لگانے کے لئے دو باتوں کا علم ضروری ہے:۔

(۱)تاریخ پیدائش۔ (۲) تاریخ وفات۔ حضرت اقدس ؑ کی تاریخ وفات ۲۴؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء ہے۔ مگر حضور کی تاریخ پیدائش حضرت کی کسی کتاب میں درج نہیں۔ کیونکہ حضورؑ کی پیدائش جس زمانہ میں ہوئی اس میں پیدائش کی یاداشت رکھنے کا دستور نہ تھا اور نہ کوئی سرکاری رجسٹر تھے جن میں اس کا اندراج ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ محض اندازوں کے باعث حضرت صاحب ؑ کی عمر کے متعلق متعدد تحریرات میں مختلف اندازے لکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔

’’عمر کا اصل اندازہ تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے اب اس وقت تک جو سن ہجری ۱۳۲۳ ؁ ہے میری عمر ستّر(۷۰) برس کے قریب ہے واللّٰہ اعلم‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۶۵)

پس معلوم ہوا کہ حضور کی تاریخ پیدائش محفوظ نہیں۔ بایں بعض ایسے قرائن اور تعیینیں حضرتؑ کے ملفوظات میں موجود ہیں جن سے صحیح اور پکا اور پختہ علم حضور کی تاریخ پیدائش کا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ از روئے حساب حضور کی تاریخ پیدائش ۱۴؍ شوال۱۲۵۰ھ مطابق ۱۳؍ فروری۱۸۳۵ء بروز جمعہ ثابت ہوتی ہے جس کے لئے جو دلائل ہیں ان کو درج ذیل کیا جاتا ہے۔

اندازہ عمر میں اختلاف

لیکن پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ عمر کے اندازہ میں اختلاف کوئی قابل اعتراض چیز نہیں۔ ایسا اختلاف ابتداء سے ہی چلا آتا ہے۔ چنانچہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر کے اندازے میں بھی اختلاف ہے۔ ملاحظہ ہو:۔

’’بعض ساٹھ برس کی اور بعض باسٹھ برس چھ مہینے کی اور بعض پینسٹھ برس کی کہتے ہیں مگر ارباب تحقیق تریسٹھ برس کی لکھتے ہیں۔‘‘

(تفریح الاذکیاء فی احوال الانبیاء باب تتمۃ در احوال جناب رسالتماب جلد۲صفحہ ۳۳۰،۳۳۱ مطبع نولکشور لکھنو)

اب دیکھ لو کہ باوجود اس کے کہ آنحضرتؐ کی پیدائش کے تمام حالات محفوظ ہیں پھر بھی حضور کی تاریخ ولادت کے متعلق اختلاف ہے اور یہ محض اندازہ کے باعث ہے۔ پس اسی قسم کا اختلاف حضرت اقدس ؑ کی عمر کے متعلق بھی ہے۔ اور مختلف مقامات پر محض اندازاً عمر لکھی گئی ہے جو حساب کر کے اور گن کر نہیں بتائی گئی، جیسے عام طریق ہے کہ عمر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ فلاں کی عمر ۶۰۔ ۷۰ کی ہوگی۔ وہ ۷۰۔۸۰ کا ہے میری عمر ۴۰۔۴۵ سال کی ہے۔ اب خواہ ۵۔۱۰ سال کا اختلاف کتنا اہم ہو پھر بھی طریق کلام یہی ہے۔ پس محض اسی قسم کے اندازہ کو بطور دلیل پیش کرنا اور ’’تناقض‘‘ قرار دے کر اس پر اعتراض کرنا نادانی ہے۔

تاریخ پیدائش کی تعیین

ہم نے حضرت ؑ کی جو تاریخ ولادت لکھی ہے اس کے لئے مندرجہ ذیل دلائل ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑتحریر فرماتے ہیں:۔

(۱) ’’عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۰۰ حاشیہ طبع اول )

(۲) ’’میری پیدائش کا مہینہ پھاگن تھا۔ چاند کی چودھویں تاریخ تھی، جمعہ کا دن تھا اور پچھلی رات کا وقت تھا۔‘‘

(ذکرِ حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحہ ۲۳۸ وصفحہ ۲۳۹)

اب مندرجہ بالا قطعی اور یقینی تعیین سے کہ جس میں کسی غلطی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا از روئے حساب معلوم کرنا نہایت آسان ہے کیونکہ پھاگن کے مہینہ میں جمعہ کا دن اور چاند کی چودھویں تاریخ مندرجہ ذیل سالوں میں جمع ہوئیں:۔

(تفصیل اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو)

(دیکھو توفیقاتِ الہامیہ مصری و تقویم عمری ہندی)

اس نقشہ سے صاف طور معلوم ہوجاتا ہے کہ ماہ پھاگن میں جمعہ کو چاند کی چودھویں تاریخ صرف دو سالوں میں آئی۔ (۱) ۱۷؍ فروری ۱۸۳۲ء (۲) ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء مطابق ۱۴؍ شوال ۱۲۵۰ھ ہجری۔

اب حضرت مسیح موعودؑ کی دوسری تحریرات کو دیکھیں تو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہی تاریخ درست ہے۔

’’یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاؔطبہ پا چکا تھا۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۰۸)

گویا ٹھیک ۱۲۹۰ھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سلسلہ وحی و الہام شروع ہوا اس وقت حضورؑ کی عمر کتنی تھی؟ فرماتے ہیں:۔

’’جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا۔‘‘

(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۸۳)

پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔

تھا برس چالیس کا مَیں اس مسافر خانہ میں

جبکہ میں نے وحیِ ربّانی سے پایا افتخار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۵)

پس ثابت ہوا کہ ۱۲۹۰ھ میں حضورؑ کی عمر ۴۰ برس تھی۔ ۴۰-۱۲۹۰=۱۲۵۰۔ پس حضورؑ کی پیدائش کا سال ۱۲۵۰ھ ثابت ہوا۔

غرضیکہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ حضرت اقدس ؑ کی تاریخ ولادت ۱۴؍ شوال ۱۲۵۰ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعہ ہے۔ حضرت کی وفات ۲۴؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو ہوئی۔ اب ۱۲۵۰-۱۳۲۶=۷۶ سال۔ گویا حضور ؑ کی عمر ۷۵ سال ۶ مہینے اور ۱۰ دن ہوئی۔ جو عین پیشگوئی کے مطابق ہے۔

ایک دھوکا

بعض مخالفین حضرت اقدس ؑ کی بعض ایسی تحریرات پیش کر کے دھوکا دیا کرتے ہیں جن میں حضور ؑ نے تحریر فرمایا ہے کہ میں چودھویں صدی کے سر پر آیا اور اس سے مراد ۱۳۰۰ھ لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے ’’صدی کے سر‘‘ سے مراد صدی کے پہلے سال کے شروع ہونے سے دس سال پہلے یا ۱۰،۲۰ سال بعد تک کا زمانہ ہوتا ہے، یعنی جب پہلی صدی کے ۸۰،۹۰ سال گزر جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اگلی صدی کا سر ا آ پہنچا ہے۔ اور جب اگلی صدی میں سے ۱۰،۱۵ سال گزر جاتے ہیں تب بھی وہ اس صدی کا سر ہی کہلاتا ہے کیونکہ یہی طریق کلام ہے کہ جب حساب دہاکوں کا ہو تو کسور حذف ہو جاتی ہیں۔ یعنی ایک سے ۹ تک اور جب حساب صدیوں کا ہو تو اس کی کسور دہاکے ہوتے ہیں جو حذف کر دیئے جاتے ہیں اور ہزاروں کے حساب میں کسور صدیاں ہوتی ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو آنحضرتؐ نے فرمایا تھا۔ اَخْبَرَنِیْ اِنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَاشَ عِشْرِیْنَ وَ مِائَۃَ سَنَۃٍ وَلَا اَرَانِیْ اِلَّا ذَاھِبًا عَلٰی رَأْسِ السِّتِّیْنَ (حجج الکرامۃ صفحہ ۴۲۸ از نواب محمد صدیق حسن خانصاحب مطبع شاہجہانی بھوپال) کہ میں ۶۰ سال کے سر پر پہنچوں گا۔ اب حضورؑ کی عمر پورے ۶۰ سال کی نہیں تھی بلکہ ۶۳،۶۵ سال تھی۔ جیسا کہ (تفریح الاذکیاء فی احوال الانبیاء جلد ۲ صفحہ ۳۳۰) کے حوالہ سے اوپر درج ہو چکا ہے اب ۶۳ یا ۶۵ کو بھی ۶۰ کا ’’سر‘‘ ہی کہیں گے کیونکہ اہل عرب میں کسور حذف کر دیئے جاتے ہیں۔

۲۔ اسی طرح سے نبراس شرح عقاید نسفی صفحہ ۵۸۷ پر ہے وَ جَاءَ فِیْ رَوَایَۃٍ اَنَّہٗ یَمْکُثُ خَمْسًا وَ اَرْبَعِیْنَ ………… فَلَا یُنَافِیْہِ حَدِیْثُ اَرْبَعِیْنَ لِاَنَّ النَّیْفَ کَثِیْرًا مَا یُحْذَفُ۔‘‘ کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ امام مہدی ۴۵ سال زندہ رہے گا۔ یہ دوسری حدیث کے جس میں ۴۰ برس آتا ہے خلاف نہیں کیونکہ عام طور پر کسور کو دہاکوں میں سے حذف کر دیا جاتا ہے۔

۳۔ نواب صدیق حسن خانصاحب لکھتے ہیں:۔

’’اولیت مائۃ تابست و پنج سال از آغاز ہر مائۃ محتمل ست بلکہ تا نصف مأتہ۔‘‘ (حجج الکرامۃ صفحہ ۱۳۴ مطبع شاہجہانی بھوپال) ’’کہ صدی کے سر سے مراد صدی کے شروع ہونے سے ۲۵ سال تک بلکہ ۵۰ سال تک ہو سکتی ہے۔‘‘ غرضیکہ حضرت اقدسؑ نے جس جس جگہ چودھویں صدی کے ’’سر‘‘ پر اپنا ظاہر ہونا یا آنا لکھا ہے، تو اس سے مراد ۱۲۹۰ھ ہی ہے نہ کہ ٹھیک ٹھیک ۱۳۰۰ھ۔ پس اس دھوکہ سے بچنا چاہیے۔

دیگر اندازے

جیسا کہ اوپر درج ہوا حضرت اقدس ؑ کی تاریخ پیدائش کی تعیین ہوجانے کے باعث حضرتؑ کی عمر ٹھیک ٹھیک معلوم ہوگئی کہ عین پیشگوئی کے مطابق تھی، لیکن چونکہ بعض تحریرات مخالفین اس قسم کی پیش کیا کرتے ہیں جن میں محض اندازہ کی بناء پر عمر بیان کی گئی ہے اور وہ بوجہ اندازے ہونے کے حجت اور دلیل نہیں بن سکتے۔ لیکن یہ بتانے کے لئے کہ محض اندازے کی بناء پر جو عمر بتائی جائے وہ قطعی اور یقینی نہیں ہوتی خود حضرت اقدس ؑ کی بعض تحریرات پیش کی جاتی ہیں جن سے حضرت اقدس کی عمر حضور کی تاریخ وفات تک ۷۴ اور ۷۶کے درمیان ہی ثابت ہوتی ہے۔

۱۔’’میری طرف سے ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھاجس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ستر ۷۰برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس(۵۰) برس کا جوان ہے۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲صفحہ ۵۰۶حاشیہ و مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ۵۶۴ حاشیہ اشتہار مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۲ء)

گویا ۲۳ اگست ۱۹۰۳ء کو حضرت ؑ کی عمر ۷۰ کے قریب تھی اس کے ۵سال بعد ۱۹۰۸ء میں حضور ؑ فوت ہوئے، تو بوقت وفات آپ کی عمر ۷۵ سال کے قریب ثابت ہوئی اور قمری لحاظ سے ۷۷ برس۔

۲۔الف۔’’مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی عمر تو میری عمرکے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔ اگر شک ہو تو اس کی پینشن کے کاغذات دفتر سرکاری میں دیکھ لو۔ ‘‘

(اعجاز احمدی۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۰۹)

ب۔’’ آتھم کی عمر قریباً میرے برابر تھی۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۷ حاشیہ)

ج۔’’ مسٹر عبد اﷲ آتھم صاحب ۲۷ ؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے۔ ‘‘

(انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۱)

گویا حضرت ؑ کی عمر بوقت وفات ۱۲+۶۴=۷۶ گویا قریباً سال ہوئی۔

نوٹ:۔بعض لوگ اخبار بدر ۸؍ گست ۱۹۰۴ء صفحہ ۵ کالم نمبر۳ کا حوالہ دے کریہ مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ گویا اس حوالہ میں ’’حضرت مرزا صا حب (مسیح موعود ؑ ) نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی اس کا مقابلہ عبداﷲ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔‘‘

حالانکہ خوب اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بالکل غلط ہے۔ حضرت اقدسؑ کی ایک دوسری تحریر اس بات کو بالکل واضح کردیتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ آتھم کی زندگی میں ہی آتھم کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ ’’اگر آپ چونسٹھ(۶۴) برس کے ہیں، تو میری عمر بھی قریباً ساٹھ(۶۰) کے ہوچکی۔ ‘‘

(اشتہار ۵؍اکتوبر۱۸۹۴ء۔ منقول از تبلیغ رسالت جلد۳ صفحہ ۱۶۰ بار اوّل۔ مجموعہ اشتہارات جلد۸۹)

گویا اس حساب سے ۱۸۹۴ء میں حضرتؑ کی عمر قریباً ۶۰ تھی، اس کے ۱۴ سال بعد ۱۹۰۸ء میں آپ فوت ہوئے۔ ۱۴+۶۰=۷۴ اور قمری۷۶۔ گویا حضرت مسیح موعودؑ کی عمر عبداﷲ آتھم کی عمر کے مطابق حساب کی رو سے کم سے کم ۷۴ سال بنتی ہے جو عین پیشگوئی کے مطابق ہے اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ۱۹۰۲ء میں اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت آپ کی عمر قریباً ۶۸ سال تھی نہ کہ ۶۴ سال، جیسا کہ مخالفین بدر کی عبارت پیش کر کے دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔

۳۔ حضرت اقدسؑ نے اپنی کتاب نصرۃ الحق ۱۹۰۵ء ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷ میں یہ تحریرفرما کر کہ خدا نے مجھے بتایا کہ میری عمر ۸۰ سے پانچ سال کم و بیش ہوگی۔ فرماتے ہیں:۔ ’’ اب میری عمر ستّر۷۰برس کے قریب ہے۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۲۵۸) اس کے تین سال بعد آپ فوت ہوئے تو اس لحاظ سے آپکی عمر ۷۳ سال کے قریب اور قمری لحاظ سے ۷۵ سال کے قریب ثابت ہوئی۔

مخالفین کی شہادت

۱۔ظفر علی خان آف زمیندارؔ کے والد مولوی سراج الدین صاحب نے حضرت مسیح موعودؑکی وفات پر لکھا:۔

’’مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲،۲۳ سال کی ہوگی۔اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔‘‘

(اخبار زمیندار ۸جون ۱۹۰۸ء صفحہ۵ بحوالہ عسل مصفّٰی جلد۲ صفحہ ۶۳۴)

۲۔ مولوی ثناء اﷲ امرتسری :۔’’مرزا صاحب ……کہہ چکے ہیں کہ میری موت عنقریب ۸۰ سال سے کچھ نیچے اوپر ہے جس کے سب زینے غالباً آپ طے کرچکے ہیں۔‘‘

( اہلحدیث ۳ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۳ کالم نمبر ۲)

اس تحریر کے پورا ایک سال بعد حضورؑ فوت ہوئے۔

۳۔’’چنانچہ خود مرزا صاحب کی عمر بقول اس کے ۵ ۷ سال کی ہوئی۔‘‘

(اہلحدیث ۲۱ جولائی۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم نمبر۲)

۴۔’’مرزا صاحب رسالہ اعجاز احمدی میں عبد اﷲ آتھم ……عیسائی کی بابت لکھتے ہیں۔ ’’اس کی عمر تو میری عمرکے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔ ‘‘ (اعجاز احمدی صفحہ ۳) اس عبارت سے پایا جاتا ہے کہ عبد اﷲ آتھم کی موت کے وقت مرزا صاحب کی عمر ۶۴ سال کی تھی۔ آئیے اب ہم تحقیق کریں کہ آتھم کب مرا تھا؟ شکر ہے کہ اس کی موت کی تاریخ بھی مرزا صاحب کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ مرزا صاحب رسالہ انجام آتھم صفحہ ۱۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱ پر لکھتے ہیں۔’’ چونکہ مسٹر عبد اﷲ آتھم صاحب ۲۷ ؍جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے۔ ‘‘ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ۱۸۹۶ء میں مرزا صاحب کی عمر ۶۴ سال کے قریب تھی۔ بہت خوب! آئیے اب یہ معلوم کریں کہ آج ۱۹۰۸ء میں ۱۸۹۶ء کو گزرے ہوئے کتنے سال ہوئے۔ ہمارے حساب میں (اگر کوئی مرزائی غلطی نہ نکالے تو ) گیارہ سال ہوتے ہیں۔ بہت اچھا ۶۴ کے ساتھ ۱۱ کو ملانے سے ۷۵ سال ہوتے ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کی عمر آج کل ۷۵ سال ہے۔‘‘ ( مرقع قادیانی فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۱۲)

گویا فروری ۱۹۰۸ء میں حضرت کی عمر بقول ثناء اﷲ ۷۵ سال تھی، اس کے تین مہینے بعد حضور فوت ہوئے تو حضرت کی عمر بہرحال مذکور ہ بالا عمر سے زیادہ ہی ہوگی کم تو نہیں ہوسکتی جیسا کہ اب ثناء اﷲ اور دوسرے دشمن کہتے ہیں۔

۵۔’’جو شخص ستر برس سے متجاوز ہو( جیسے خود بدولت بھی ہیں) (مرزا صاحب ؑ۔ خادم) ‘‘

(تفسیر ثنائی مطبوعہ ۱۸۹۹ء حاشیہ نمبر ۴ بر آیت اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ (آل عمران : ۵۶) جلد دوم )

گویا ۱۸۹۹ء میں حضرت کی عمر ۷۰ سال سے زیادہ تھی۔ ۱۹۰۸ء میں یعنی ۹ سال بعدآپ فوت ہوئے تو اس حساب سے حضور کی عمر ۷۹ سال سے زیادہ ثابت ہوئی۔

۶۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۵ نمبر۸صفحہ ۱۹۱۔ ۱۸۹۳ء میں حضرت کے متعلق سخت غصہ میں آکر لکھتا ہے:۔’’ ۶۳ برس کا تو وہ ہوچکا ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت اقدسؑ ۱۴ برس زندہ رہے۔ گویا ۶۳ +۱۴=۷۷ سال ہوئی اور یہ امر خاص طور پر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی عمر کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی کی یہ شہادت جو اس نے حضرت کی وفات سے قبل دی بمقابلہ مخالفین سب سے زیادہ قابل استناد ہے۔ کیونکہ وہ حضرت کا بچپن سے دوست اور ہم مکتب بھی تھا چنانچہ وہ خود لکھتا ہے:۔

’’مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے( جب ہم قطبی اور شرح ملا پڑھا کرتے تھے ) ہمارے ہم مکتب بھی ہیں۔‘‘

( اشاعۃ السنۃ جلد ۷ نمبر۶ تا۱۱۔ بابت سال ۱۸۸۴ء صفحہ ۱۶۹، ۱۷۰)

ایک اعتراض اور اس کا جواب

بعض مخالفین نے اعتراض کیا ہے کہ جب حضرت اقدس ؑ کی تاریخ پیدائش ہی معلوم نہیں تو پھر عمر کی پیشگوئی دلیل صداقت کیونکر ہوسکتی ہے کیونکہ اس کا صدق و کذب معلوم نہیں ہوسکتا۔

جواب:۔۱۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت اقدس ؑ ہی کے ملفوظات میں ایسے قرائن جمع کرادئیے تھے کہ جن سے تاریخ پیدائش معلوم ہوکر تم پر حجت ہوسکتی تھی۔ چنانچہ اب جبکہ تاریخ پیدائش تحقیق کے رو سے معین ہوگئی تو تمہارا اعتراض بھی ساتھ ہی اڑ گیا۔

۲۔اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ فرض کرو کہ تاریخ پیدائش معین نہ بھی ہوتی پھر بھی یہ پیشگوئی دلیل صداقت تھی۔ وہ اس طرح کہ:۔

(۱) مخالفینِ احمدیت مثلاً مولوی ثناء اﷲ امرتسری و مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کی شہادت غیر احمدیوں پر حجت ہے۔

(۲) یہ بات کہ حضورؑکی عمر چہتر(۷۶) اور چھیاسی(۸۶) کے درمیان ہوگی، الہام الٰہی کی بنا ء پر معلوم ہوئی ہے۔ اب حضرت اقدسؑ کی وفات کے متعلق بھی الہاماتِ الٰہی بکثرت موجود ہیں جن کے عین مطابق حضورؑ فوت ہوئے مثلاً

الف۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دسمبر ۱۹۰۵ء میں الوصیت شائع فرماتے ہیں اور اس لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ’’قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ……جَاءَ وَقْتُکَ‘

(رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۱)

یعنی تیرا وقتِ وفات قریب آگیا اور تیری عمر کی میعاد جو مقرر کی گئی تھی اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔ گویا اﷲ تعالیٰ نے صاف بتادیا کہ ۷۴ سال سے متجاوز عمر پانے کی جو پیشگوئی حضور نے کی تھی اس کے مطابق حضور کی عمر پوری ہوگئی۔ اب تم اس الہام کو مانو یا نہ مانو، بہرحال اتنا تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک تو آپ کی وفات عین پیشگوئی کے مطابق ۷۴ اور ۷۶ سال کے اندر اندر ہوئی۔

ب۔ پھر حضور فرماتے ہیں:۔

رؤیا:۔’’ایک کوری ٹنڈ میں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔ پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے لیکن بہت مصفّٰی اور مقطر پانی ہے اس کے ساتھ الہام تھا۔ آب زندگی۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز اردو جلد ۴ نمبر ۱۱ ص ۴۸۰ ماہ دسمبر ۱۹۰۵ء و تذکرہ صفحہ ۵۷۳ ایڈیشن سوم مطبوعہ ۱۹۶۹ء الشرکۃ الاسلامیۃ ربوہ)

اس میں ’’دو تین گھونٹ‘‘ زندگی کا پانی باقی رہنا بتایاگیا ہے سو اس کے مطابق پورے اڑھائی سال بعد حضرت اقدسؑ فوت ہوئے۔ غرضیکہ جس ملہم نے یہ بتایا کہ آپ کی عمر ۷۴- ۷۶ کے درمیان ہوگی اسی ملہم نے وفات کے قریب بتادیا کہ وہ میعاد اب قریب الاختتام ہے اور اب اس میں دو تین سال رہ گئے ہیں۔ سو اس کے مطابق عین سال کی عمر میں حضورؑ کی وفات ہوئی۔

ایک شُبہ کا ازالہ

بعض مخالفین یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ الہام جو ’’یا۔ یا‘‘ کا لفظ آتا ہے کہ’’ اسی سال‘‘ یا اس سے چار پانچ سال کم یا چار پانچ سال زیادہ۔ یہ متکلم کے دل میں شک اور شبہ پر دلالت کرتا ہے۔ کیا اﷲ تعالیٰ کو صحیح علم نہ تھا ؟

الجواب۱:۔اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو تو صحیح صحیح معلوم تھا، لیکن عمر کی تعیین کرکے اس کو معین طور پر ظاہر کرنا مناسب نہ تھا کیونکہ اﷲ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ عبد الحکیم مرتد اور ثناء اﷲ جیسے دشمنوں کے ساتھ حضرت اقدسؑ کا مقابلہ ہوگا اور حضور ؑ کی وفات کے متعلق من گھڑت پیشگوئیاں شائع کر دیں گے۔ اور اس طرح سے حق مشتبہ ہوجائے گا۔ چنانچہ عبد الحکیم مرتد نے اسی ’’دو تین گھونٹ پانی‘‘ والے رؤیا کے شائع ہونے پر جھٹ تین سال کی میعاد لگا کر پیشگوئی کردی۔ سو اﷲ تعالیٰ کی حکمت نے بجائے کوئی سال وفات کے لئے معین کرنے کے آپ کی عمر کی پہلی اور آخری حد بتادی تاکہ مخالفین کو جھوٹا کرنے کی گنجائش رہے۔ اسی طرح مولوی ثناء اﷲ کے ساتھ ’’آخری فیصلہ‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۵۷۹ از الشرکۃ الاسلامیۃ) بھی حضور ؑ نے تحریر فرمایا۔ اب مولوی ثناء اﷲ صاحب اگر مباہلہ پر آمادہ ہوتے تو یقینا اﷲ تعالیٰ حضرت اقدس کو اور عمر دیتا اور مولوی ثناء اﷲ کو حضور ؑ کی زندگی ہی میں موت دیتا۔ پس ’’یا۔ یا‘‘ کے الفاظ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ملہم کو شبہ ہے بلکہ اس کے برعکس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملہم کو حضرت ؑ کی وفات سے ۳۰ سال قبل ہی آپ ؑ کی وفات کے قریب کے حالات کا علم تھا کہ دشمن کس طرح آپ کے الہامات سے پیشگوئیاں اڑا کر حضور علیہ السلام کی وفات کو اپنی پیشگوئی کا نتیجہ قرار دے کر حق کو مشتبہ کرنے کی ناپاک کوشش کریں گے۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے نَزِیْدُ عُمُرَکَ(بدر جلد۲ نمبر۴۳ مورخہ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) کے الہام کے لئے بھی گنجائش رکھ لی۔

۲۔ ’’یا‘‘۔’’یا‘‘ کا لفظ کئی دفعہ خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی آجایا کرتا ہے۔ اور اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔(یونس: ۴۷) کہ اے نبی! یا تو ہم آپ کو آپ کی بعض پیشگوئیاں پوری ہوتی دکھادیں گے یا آپ کو وفات دے دیں گے۔

۳۔ قرآن مجید میں ہے:۔’’‘‘(التوبۃ:۱۰۶)

کہ کچھ اور بھی ہیں (یعنی وہ تین صحابہؓ کعب بن مالک۔ ہلال بن امیہؓ اور مرارۃ بن الربیع ؓ) جو جنگِ تبوک میں جانے سے پیچھے رہ گئے تھے۔خدا تعالیٰ کے حکم کی انتظار میں۔ جن کا معاملہ تاخیر میں ڈالا گیا تھا۔ اﷲ تعالیٰ ان کو عذاب دے گایا معاف فرما دے گا۔ اﷲ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

اس آیت میں بھی ’’یا۔یا‘‘ آیا ہے۔ اس کے متعلق تفسیر حسینی میں لکھا ہے:۔’’یا عذاب کرے گا اﷲ ان پر اگر وہ اس گناہ پر اڑے رہیں گے…… اور یا توبہ دے گا انہیں اگر نادم ہوں گے اس کام سے۔ یہ تردید یعنی ’’یہ یا یہ‘‘ کہنا بندوں کے واسطے ہے۔ ورنہ اﷲ کے نزدیک تردید نہیں۔‘‘

(تفسیر قادری زیر آیت وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِاللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ۔ (التوبۃ:۱۰۶) تفسیر حسینی فارسی زیر آیت وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِاللّٰہِ…… التوبۃ:۱۰۶)

یعنی اﷲ تعالیٰ کو نتیجہ کا علم تھا۔ مگر اﷲ تعالیٰ چونکہ لوگوں کو تردّد میں رکھنا چاہتا تھا اس لئے ’’یا‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔

یہی حال یہاں ہے۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ عبد الحکیم اور الٰہی بخش وغیرہ دشمنوں سے حضرت مسیح موعود کے وقتِ وفات کو مصلحتاً مخفی رکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ کوئی جھوٹی پیشگوئی بنا کر حق کو مشتبہ نہ کرسکیں۔ اس لئے ’’اَوْ‘‘ کا لفظ رکھا گیا۔ پس محض لفظ ’’یا‘‘ کی بنا پر اﷲ تعالیٰ پر اعتراض کرنا نادانی ہے۔

نوٹ:۔ یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الحکم صفحہ۱۵ کالم نمبر۱ مورخہ ۱۷۔۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء میں یہ فرمایا ہے کہ میں نے کسی بزرگ سے دعا کرواکے ۱۵ سال عمر بڑھوالی ہے اور اب میری عمر ۹۵ سال ہوگی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قطعاً عمر کا ۹۵ سال ہونا نہیں فرمایا۔ بلکہ ایک ’’خواب‘‘ کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور خواب تعبیر طلب ہے۔ جس طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا سونے کے کنگن پہننے کا خواب۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب۔

(۲) مردان علی صاحب حیدر آبادی نے ۵ سال اپنی عمر کے کاٹ کر حضرت ؑ کے پیش کئے تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ حضرت ؑ نے اسے قبول فرما لیا تھا۔ کوئی شخص اپنی عمر کاٹ کر دوسرے کو نہیں دے سکتا ورنہ صحابہؓ اپنی زندگیاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دیتے۔ مردان علی صاحب نے اپنے اخلاص کا اظہار اس طریق سے کیا۔ وہ حوالہ دکھاؤ جس میں حضرت ؑ نے یہ فرمایا ہو کہ میں نے مردان علی صاحب کی پیشکش کو منظور کر لیا۔

(۳) مولوی عبد الکریم صاحب نے حضرت اقدسؑ کا خواب میں اصرار سے اپنی اس قدر عمر پانے کے لیے جو حضور کیجماعت کو مستحکم کرنے کے لیے کافی ہو، دعاکرانا۔ مگر حضرت مولوی صاحب مرحوم کا دعانہ کرنا اور بجائے دعا کے ہاتھ اوپر اٹھا کر اکیس اکیس کہتے جانا( دیکھو تذکرۃ ایڈیشن اوّل صفحہ۵۲۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک دلیل ہے اور وہ اس طرح سے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی زبان سے بتادیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی جماعت کے استحکام کے لئے کل ۲۱ سال ملیں گے۔ چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام نے بیعت ۱۳۰۶ھ کے اوائل میں لی ہے اور وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی۔ گویا آپ بیعت کے بعد ۲۱ سال تک اپنے سلسلہ کو مستحکم فرما کر تشریف لے گئے۔
 
Top Bottom